جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا خدا ہوتا ہے ایک ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کے بعد گھر سے نکالی گئی معصوم ثانیہ کی سچی اور لرزہ خیز کہانی!

 جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا خدا ہوتا ہے ایک ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کے بعد گھر سے نکالی گئی معصوم ثانیہ کی سچی اور لرزہ خیز کہانی!

ننکانہ صاحب سے تعلق رکھنے والی ثانیہ، جس کے ماں باپ بھی زندہ ہیں اور 7 بہن بھائی بھی، مگر وہ آج لاہور کے ایک چائلڈ پروٹیکشن سنٹر میں مقیم ہے۔ آخر اس کے ساتھ ایسا کیا ہوا؟ 💔




جھگڑا اور الزام:
چند سال قبل ثانیہ کے والدین کے درمیان بیٹا نہ ہونے پر جھگڑا ہوا۔ والد کو بیٹا چاہیے تھا، مگر ثانیہ پیدا ہو گئی۔ غصے اور جہالت میں والد نے الزام لگایا کہ "یہ میری اولاد نہیں ہے"۔ اس کے بعد ماں کو گھر سے نکال دیا گیا۔

عدالتی جنگ اور DNA ٹیسٹ:
معاملہ عدالت پہنچا۔ والد نے ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کی رپورٹ پیش کی، جس میں ثابت ہوا کہ ثانیہ اس کی بیٹی نہیں ہے۔ (کیسی ستم ظریفی ہے!) شوہر نے بیوی کے سامنے سخت شرط رکھ دی: "یا تو اس بچی کو لے کر چلی جاؤ، یا اسے گھر سے نکال کر باقی 7 بچوں کے ساتھ میرے پاس رہ جاؤ"۔ 🚫

ماں کی مجبوری اور بچی کی تنہائی:
باقی 7 بچوں کے ساتھ رہنے کی خاطر، ماں نے اپنے شوہر کے پیر پکڑ کر اسے منا لیا اور اپنی ہی بیٹی کو "دھتکار" دیا۔  اس نام نہاد ظالم شخص نے معصوم ثانیہ کو گھر سے نکال دیا۔

بھیک منگوانے والوں کے ہتھے:
گھر سے بے گھر ہونے کے بعد، ثانیہ پہلے بھیک منگوانے والے مافیا کے ہتھے چڑھی اور کچھ ہفتے سڑکوں پر بھیک مانگتی رہی۔ اللہ کی کرنی دیکھیے، چائلڈ پروٹیکشن والے اس بچی کو لاہور لے آئے۔

ماما سارہ کا روپ:
لاہور سنٹر میں "ماما سارہ" نامی ایک فرشتہ صفت خاتون نے ثانیہ کو سینے سے لگا کر اپنی بیٹی بنا لیا۔  اب ثانیہ وہاں بہترین پرورش پا رہی ہے، تعلیم حاصل کر رہی ہے، کمپیوٹر کورس کر رہی ہے اور مستقبل میں "گرافک ڈیزائننگ ایکسپرٹ" بننے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ ماما سارہ نے قسم کھائی ہے کہ وہ بشرطِ زندگی ثانیہ کے ہر خواب کو پورا کریں گی۔ 🎓💻

سب سے افسوسناک بات:
اتنے ظلم اور بے وفائی کے باوجود، جب ثانیہ سے پوچھا جاتا ہے، تو وہ کہتی ہے: "اگر میرے بابا آکر مجھے لے جائیں، تو میں ان کے ساتھ چلی جاؤں گی، کیونکہ وہ میرے دل میں بستے ہیں۔ انہیں بس غلط فہمی ہو گئی ہے"۔ ❤️

سوال:
اب آپ ہی بتائیں، اتنے ظلم اور بے وفائی کے باوجود، ثانیہ کے دل میں اس شخص کے لیے اتنی محبت کیوں ہے؟ کیا خون کا رشتہ ایسا ہی ہوتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی ظالم کیوں نہ ہو؟ یا یہ معصومیت کی انتہا ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں اور اس کہانی کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ سماج کے ایسے ناسوروں کے لیے عبرت بنے۔ 🙏👇

ڈسکلیمر (Disclaimer):
اس خبر/تحریر میں دی گئی معلومات عوامی ذرائع اور مقامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ "میرا پتوکی آفیشل"
(Mera Pattoki Official) کوشش کرتا ہے کہ حقائق درست انداز میں پیش کیے جائیں، تاہم کسی بھی معلومات کی مکمل صداقت یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی عمل کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہیں ہوگی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حساس معاملات میں خود بھی تصدیق کر لیں۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی ہر تحریر یا عوامی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔




Comments

Popular posts from this blog

سچ کہتے ہیں قتل کبھی نہیں چھپتا، قاتل 25 سال بعد قانون کے شکنجے میں!

انتہائی افسوسناک خبر: پاکپتن میں انسانیت لرز اٹھی! اغوا ہونے والی خاتون ٹیچر کی لاش برآمد، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا!

بڑی خبر: ہارون آباد میں لرزہ خیز واقعہ، طالبہ نے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا!